Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نابالغ بچہ چوری کرے تو کیا حکم ہے ؟
- Fatwa no.
- 3046-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) نابالغ چوری کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
چوری کرنا، ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے، البتہ نا بالغ چونکہ شرعی احکامات کا مکلف نہیں ہوتا، اس لئے اگر وہ چوری کرے تو اسے گناہ تو نہیں ملے گا، لیکن جو اس نے جو چیز چوری کی ہے ، وہ اگر موجود ہو تو اسے مالک تک پہنچانا ضروری ہے اور اگر وہ موجود نہ ہو تو پھر اس کا تاوان اس پر ضرور لازم ہو گا، جو اصل مالک کو ادا کیا جائے گا، اور اگر اصل مالک نہ رہا ہو ، تو اس کے وارثوں کو ، اور وہ بھی نہ ہوں ، تو ثواب کی نیت کے بغیر شرعی فقیر کو صدقہ کر دیا جائے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.