Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسلمان کا غیر مسلم حجام(نائی) سے بال کٹوانا
- Fatwa no.
- 3044-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) مسلمان مرد کا کسی عیسائی مرد سے بال کٹوانا کیسا؟
Answer (beginning)
مسلمان مرد کا کسی عیسائی سے بال کٹوانا جائز ہے، کیونکہ مرتد کے علاوہ دیگر کفار سے دنیوی معاملات جیسے بیج ، اجارہ وغیرہ کرنا جائز ہے، بشر طیکہ دین کا نقصان نہ ہو تا ہو ، ہاں اگر وہاں پر مسلمان کی دوکان بھی ہو تو کوئی شرعی عذر اور حرج وغیرہ کی صورت نہ ہو تو پھر مسلمان سے ہی کٹوانے چاہیں کہ اس سے مسلمان کا مالی فائدہ ہو گا۔ بدائع الصنائع میں ہے ” واسلامه ليس بشرط اصلا، فتجوز الاجارة والاستئجار من المسلم والذمى والحربي المستامن لان هذا من عقود المعاوضات فيملكه المسلم والكافر جميعا كالبياعات“ ترجمہ : عقد اجارہ کرنے والے کا مسلمان ہونا اصلاً کوئی شرط نہیں ہے، لہذا کرایہ پر کوئی چیز دینا یا لینا…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.