Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بیوی کے انتقال کے بعد ساس سے نکاح کرنا کیسا ؟
- Fatwa no.
- 3038-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کسی شخص کی بیوی کا انتقال ہو گیا ہے ، کیا وہ اپنی ساس سے نکاح کر سکتا ہے ؟
Answer (beginning)
شرعی اعتبار سے داماد کے لیے ساس محرم ہے کہ وہ بیوی کی ماں ہے، اور اس کی حرمت نص قطعی سے ثابت ہے، لہذا بیوی کے انتقال کے بعد بھی داماد کا اپنی ساس سے نکاح کرنا جائز نہیں۔ داماد کے لیے ساس محرم ہے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿وَ أُمَّهَتُ نِسَآبكُم ) ترجمہ کنز الایمان : ( حرام ہوئیں تم پر ) عورتوں کی مائیں۔ (پارہ 4، سورۃ النساء، آیت 23) فتاوی ہندیہ میں ہے " ( القسم الثاني المحرمات بالصهرية) وهي أربع فرق: (الأولى) أمهات الزوجات وجداتهن من قبل الأب والأم وان علون " یعنی محرمات کی دوسری قسم سسرالی رشتے سے محرم بننے والی عورتیں ہیں اور یہ چار قسم کی ہیں، ان میں سے پہلی قسم ، بیویوں کی مائیں ہیں…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.