Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نانا کے بھائی کی بیٹی سے نکاح کا حکم

Fatwa no.
3037-WAT

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے بیٹے کا نکاح میری بیوی کے چا کی بیٹی سے ہو سکتا ہے

Answer (beginning)

جی ہاں ! شرعی طور پر آپ کے بیٹے کا نکاح آپ کی بیوی کے چا کی بیٹی سے ہو سکتا ہے جبکہ حرمت کی کوئی اور وجہ مثلاًر ضاعت یا مصاہرت وغیرہ نہ ہو کیونکہ آپ کی بیوی کا باپ، آپ کے بیٹے کا نانا ہے اور اس کا بھائی اگر چہ عرفی نانا ہے لیکن حقیقی نانا نہیں ہے ، نہ ہی اس کی بیٹی اس کی حقیقی خالہ (ماں کی سگی بہن یہاں شریک بہن یا باپ شریک بہن ) ہے اور جن عورتوں سے نکاح حرام ہے، قرآن پاک میں ان کو بیان کرنے کے بعد فرمایا ان کے علاوہ جتنی عورتیں ہیں وہ تمہارے لئے حلال ہیں " اور نانا کے بھائی کی بیٹی کو قرآن پاک میں محرمات میں شمار نہیں کیا گیا، لہذا اس سے نکاح حلال ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.