Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا فاسق معلن نمازِ جنازہ پڑھا سکتا ہے؟

Fatwa no.
3035-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا کوئی فاسق معلن شخص مثلاً جو داڑھی ایک مشت سے کم کراتا ہو یا نماز نہ پڑھتا ہو ، اپنے ولی یا غیر ولی کی نماز جنازہ پڑھا سکتا ہے؟

Answer (beginning)

نماز جنازہ میں بھی امام کے لیے امامت کی دوسری شرائط کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ فاسق معلن نہ ہو، لہذا جو شخص داڑھی منڈوا تا ہو یا ایک مشت سے کم کرواتا ہو یا بے نمازی ہو یا کسی بھی طرح کا اعلانیہ فسق کرنے والا ہو ، اسے نماز جنازہ میں بھی امام بنانا گناہ و نا جائز ہے۔ البتہ نماز جنازہ اگر کسی فاسق معلن نے پڑھا دی تو نماز ہو جائے فاسق معلن کو امام بنانا گناہ ہے، جیسا کہ غنیہ المستملی میں ہے ”قد موافاسقاياثمون،بناء على ان كراهة تقديمه كراهة تحريم ترجمہ: لوگوں نے فاسق کو امام بنایا، تو وہ گناہ گار ہوں گے کیونکہ اس کو مقدم کرنا مکر وہ تحریمی ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.