Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بچے کو کب تک دودھ پلانا ضروری ہے ؟

Fatwa no.
3032-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میرے بھائی اور اس کی زوجہ کے درمیان علیحدگی ہو گئی ہے اور علیحدگی کے وقت میری بھا بھی حاملہ تھی ، ان کا کہنا ہے کہ لڑکا یا لڑکی جو بھی پیدا ہو گا وہ اُسے نہیں رکھیں گی، تو میرا ارادہ ہے کہ بھائی کی ہونے والی اولاد کو میں رکھوں گی ،مگر مجھے پوچھنا یہ ہے کہ میرا اپنا بھی ایک 14 مہینے کا دودھ پیتا بچہ ہے اور اب جب میں بھائی کا بچہ پالوں گی تو ظاہر ہے کہ اس کی تو خوراک میر ادودھ ہی ہو گی، تو کیا میں اپنے 14 ماہ کے بچے کو دو سال کی مدت سے پہلے ہی دودھ چھٹر اسکتی ہوں ؟ کیونکہ ایک ساتھ دو بچوں کو دودھ پلانے میں میرے لئے آزمائش ہو جائے گی۔ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

Answer (beginning)

دودھ پلانے میں پورے دو سال کی مدت کو پورا کرنا کوئی واجب و ضروری نہیں، بلکہ اگر اس مدت سے پہلے ہی بچے کو دودھ پلانے کی ضرورت نہ رہے، اس طرح کہ ماں کے دودھ کے علاوہ دوسری غذاؤں سے بچہ خوراک حاصل کر رہا ہو ، اور ماں کا دودھ چھڑانے میں بچے کو کوئی نقصان اور خطرہ بھی لاحق نہ ہو، تو دو سال سے پہلے بھی دودھ چھڑانا شرعاً جائز ہوتا ہے۔ شریعت مطہرہ نے بچے کو دودھ پلانے کی مدت جو پورے دو سال مقرر فرمائی ہے ، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جو دودھ پلانے کی مدت کو مکمل کرنا چاہے تو وہ صرف دو سال کی مدت تک ہی دودھ پلا سکتا ہے ، اس کے بعد اس کیلئے دودھ پلانا جائز نہیں ہو گا، لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر آپ کے بچے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.