Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا زنا سے پیدا ہونے والے بچے کا عقیقہ کر سکتے ہیں؟

Fatwa no.
3023-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) زنا سے پیدا ہونے والے بچے کا عقیقہ کر سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

شرعی قواعد کی روشنی میں عقیقہ نام ہے اللہ پاک کی طرف سے بچے کی نعمت حاصل ہونے پر شکر ادا کرنے کا، لہذا اگر زنا سے پیدا ہونے والے بچہ کا عقیقہ زانی کرے تو اس کے حق میں وجہ نعمت اصلاً موجود نہیں، کیونکہ زنا سے پیدا ہونے والے بچہ کازانی سے نسب ہی ثابت نہیں ہو تا یعنی وہ نہ اس کا بیٹا ہے ، اور نہ یہ اس کا باپ ،لہذاجب زانی کے حق میں نعمت نہیں تو پھر شکر کس چیز پر ؟ البتہ ایسے بچے کا عقیقہ ،اگر اس کی ماں کرے تو ٹھیک ہے کیونکہ اپنی ماں سے اس کا نسب ثابت ہے ، اور نسب فی نفسہ نعمت ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.