Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ریاکاری سے بچنے کے لئے گھر میں نماز پڑھنا
- Fatwa no.
- 3020-WAT
Question
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیار یا کاری سے بچنے کے لئے گھر میں نماز پڑھ سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
جی نہیں ! مسجد کی حاضری لازم ہو ، تو محض ریا کاری سے بچنے کے لئے گھر میں نماز نہیں پڑھ سکتے کہ مرد پر جماعت واجب ہونے کی صورت میں پانچوں وقت کی نماز مسجد میں آکر جماعت کے ساتھ پڑھناشر عأواجب ہے اور بلا عذر شرعی اسے ترک کرنا، ناجائز و گناہ ہے۔ نیز کوئی بھی نیک عمل ریا کاری کے خوف سے چھوڑا نہیں جائے گا۔ بلکہ بندہ نیک عمل کرتار ہے اور ریاکاری سے بچنے کے لئے اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا کر تار ہے۔ مصنف عبد الرزاق میں ہے: ” لا صلاة لجار المسجد الا في المسجد، قال الثوري في حديثه قيل لعلی ومن جار المسجد ؟ قال من سمع النداء “ ترجمہ : مسجد کے پڑوسی کی نماز نہیں، مگر مسجد میں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.