Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا چار نمازیں پڑھنے والے کو بھی نمازی کہا جائے گا ؟
- Fatwa no.
- 3002-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص چار نمازیں پڑھے اور ایک نہ پڑھے ، اس کو نمازی کہا جائے گا یا نہیں ؟ اور اس کی سزا کیا ہے ؟
Answer (beginning)
نمازی کہلانے کا حق دار وہی مسلمان ہے ، جو پانچوں وقت کی فرض نمازیں پابندی سے ادا کرے اور کوئی ایک نماز بھی جان بوجھ کر قضانہ کرے، لہذا جو شخص چار نمازیں پڑھے اور ایک نہ پڑھے ، وہ بے نمازی ہی کہلائے گا۔ اور جان بوجھ کر ایک نماز بھی ترک کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ اور بروزِ قیامت سب سے پہلے نماز کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” أول ما يسأل عنه العبد يوم القيامة يُنظر في صلاته، فإن صلحت فقد أفلح، وإن فسدت فقد خاب وخسر “ترجمہ : قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے جس چیز کے بارے میں پو چھا جائے گا، وہ یہ کہ اُس کی نماز دیکھی…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.