Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا قربانی کے دن روزہ رکھنے کی منت ماننا صحیح ہے؟

Fatwa no.
3001-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا قربانی کے دن روزہ رکھنے کی منت ماننا صحیح ہے؟

Answer (beginning)

سال میں پانچ دن ایسے ہیں کہ جن میں روزہ رکھنے کی شریعت کی طرف سے اجازت نہیں ہے ، ان دنوں میں سے کسی دن روزہ رکھنا گناہ ہے ، وہ یہ ہیں: (1) عید الفطر کا دن (یکم شوال المکرم)۔(2) عید الا ضحی کا دن (دس ذو الحجة الحرام )(3) گیارہ ذوالحجۃ الحرام۔(4) بارہ ذوالحجۃ الحرام (5) اور تیرہ ذوالحجۃ الحرام۔ اب ان دنوں میں سے کسی دن کا روزہ رکھنے کی منت مانی تو منت تو درست ہو جائے گی اور اس پر روزہ رکھنا بھی واجب ہو جائے گا، مگر یہ روزہ ان دنوں میں سے کسی دن نہیں رکھ سکتا، بلکہ لازم ہے کہ ان دنوں ( عید الفطر ، عید الاضحی اور گیارہ، بارہ، تیر ہ ذوالحجہ) کے علاوہ کسی اور دن روزہ رکھے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.