Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سوتیلی ماں کے بھائی سے نکاح کا حکم

Fatwa no.
2995-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) زید نے ایک شادی کی ، اس بیوی سے اس کو اولاد بھی ہوئی، پھر اس بیوی کا انتقال ہو گیا، پھر زید نے دوسری شادی کی، اب اس دوسری بیوی کے بھائی سے اپنی اس بیٹی کا نکاح کرنا کیسا ، جو پہلی بیوی سے ہوئی تھی ؟

Answer (beginning)

دریافت کی گئی صورت میں زید کا اپنی پہلی بیوی سے ہونے والی بیٹی کا اپنی دوسری بیوی کے بھائی سے نکاح کرنا درست ہے جبکہ کوئی اور مانع نکاح مثلا رشتہ رضاعت وغیرہ نہ ہو، کیونکہ زید کی دوسری بیوی زید کی بیٹی کی حقیقی ماں نہیں بلکہ سوتیلی ہے ، اور سوتیلی ماں کے بھائی سے نکاح بلا شبہ درست ہے کہ وہ ماموں نہیں، جس طرح سوتیلی ماں کی بہن اپنی خالہ نہیں لہذا اس سے نکاح درست ہے۔ جن عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے، ان کے تفصیلی ذکر کے بعد ارشادِ باری تعالیٰ ہے ﴿ وَأَحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذلِكُم ﴾ ترجمہ کنز الایمان: ”اور ان کے سواجو ر ہیں وہ تمہیں حلال ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.