Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

رکوع و سجود کی تسبیحات کی جگہ بسم اللہ پڑھنے کا حکم

Fatwa no.
2993-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) رکوع اور سجدے میں تین بار تسبیح پڑھناسنت ہے، تو اگر کسی شخص نے تسبیح کی جگہ

Answer (beginning)

بسم اللہ قرآن پاک کی آیت ہے ، اس کا پڑھنا بھی قرآن پڑھنا ہو گا اور نماز میں قیام کے علاوہ رکوع، سجود، قومہ اور قعود کسی بھی جگہ قرآن پاک پڑھنا مکروہ تحریمی و ناجائز ہے اور اس سے بچنا واجب ہے، لہذا اگر کسی شخص نے جان بوجھ کر رکوع و سجود میں بسم اللہ پڑھی تو نماز واجب الاعادہ ہو گی اور بھولے سے پڑھی تو سجدہ سہو واجب ہو گا۔ امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ” قیام کے سوار کوع و سجود و قعود کسی جگہ بسم اللہ پڑھنا جائز نہیں کہ وہ آیہ قرآنی ہے اور نماز میں قیام کے سوا اور جگہ کوئی آیت پڑھنی ممنوع ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.