Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا جادو کرنے والا کافر ہو جاتا ہے؟

Fatwa no.
2989-WAT

Question

کیا کسی پر جادو کرنے والا کافر ہو جاتا ہے؟ (دعوت اسلامی)

Answer (beginning)

کسی پر جادو کرنا، سخت ناجائز ، حرام اور کبیرہ گناہ ہے ، البتہ مطلقاً جادو کرنے والا کافر نہیں، بلکہ اگر کفر والی کوئی صورت پائی گئی، تب کا فر ہو گا، مثلاً ستاروں یا شیاطین کو مؤثر مانے یا قرآن پاک کی توہین کرے یا کوئی دوسرا کفریہ کام یا کلام کرے، تو ایسی صورت میں واقعی وہ کا فرومر تد ہو جائے گا۔ ضروری تنبیہ : شرعی ثبوت کے بغیر محض شک یا سنی سنائی باتوں کی وجہ سے یا کسی عامل کے کہنے پر کسی مسلمان کے بارے میں یوں کہنا کہ ”اس نے مجھ پر یا فلاں پر جادو کیا ہوا ہے سخت ناجائز اور گناہ ہے، کیونکہ یہ بد گمانی اور اس مسلمان کی دل آزاری کا سبب ہے اور ان دونوں کی حرمت واضح طور پر قرآن و حدیث میں موجود…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.