Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا عورت اپنے ماموں کے ساتھ عمرہ کرنے جا سکتی ہے؟
- Fatwa no.
- 2982-WAT
Question
میر اسوال یہ ہے کہ میرے پاس عمرہ کرنے کے پیسے موجود ہیں، لیکن محرم نہیں ہے ، البتہ میرے ماموں اور مامی عمرہ کرنے جارہے ہیں ، تو کیا میں ان کے ساتھ عمرہ کرنے جا سکتی ہوں یا نہیں؟
Answer (beginning)
آپ کے حقیقی ماموں آپ کے محرم ہیں، لہذا آپ ان کے ساتھ عمرہ کرنے جاسکتی ہیں۔ اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهُتُكُمْ وَبَنْتُكُمْ وَاَخَوتُكُمْ وَعَيْتُكُمْ وَخُلتُكُمْ وَ بَنْتُ الْآخِ وَ بَنْتُ الْأُخْتِ ﴾ ترجمہ کنز الایمان: حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں۔(پارہ 4،سورۃ النساء، آیت 23) تفسیر صراط الجنان میں ہے ”اس میں بھانجیاں ، بھتیجیاں اور ان کی اولاد بھی داخل ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.