Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

موبائل کا کاروبار کرنے کا حکم

Fatwa no.
2978-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا موبائل کی دکان میں کام کرنا گناہ ہے ؟ یا خود اپنی موبائل کی دکان بنانا گناہ ہے ؟ کیونکہ موبائل کے ذریعے اچھے برے دونوں کام ہوتے ہیں، تو کیا ہم موبائل بیچ سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

موبائل کی دکان بنانا یا ایسی دکان میں کام کرنا جہاں موبائل سیل کیے جاتے ہیں ، جائز ہے، جبکہ بیچنے میں برے کام میں مدد کرنے کی نیت نہ ہو، کیونکہ موبائل صرف گناہ کے کام لیے ہی خاص نہیں ہے بلکہ اس کا اچھا اور برادونوں استعمال ہوتے ہیں، اب یہ استعمال کرنے والے پر ہے کہ وہ اس کا کس طرح استعمال کرے گا، بر ا استعمال کرے گا تو اس کا ذمہ دار وہ خود ہو گا، بیچنے والے پر اس کا وبال نہیں ہو گا۔ و قار الفتاوی میں ہے " (ویڈیو) کیسٹ صرف معصیت ہی میں نہیں بلکہ نیک کاموں میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔لہذا کیسٹ منگانے اور بیچنے میں کوئی حرج نہیں، استعمال کرنے والا جس جگہ استعمال کرے گا، وہ اس کا ذمہ دار ہو گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.