Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اپنے بیٹے کی رضاعی بہن سے نکاح کرنا

Fatwa no.
2977-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک شخص کے بیٹے نے کسی دوسری عورت کا دودھ پیا اور اس عورت کا دودھ ایک لڑکی نے بھی پیا ہے تو کیا یہ شیخ اپنے بیٹے کی رضاعی بہن سے نکاح کر سکتا ہے ؟

Answer (beginning)

تنص جی ہاں، مذکورہ بالا شخص اپنے بیٹے کی رضاعی بہن سے نکاح کر سکتا ہے، جبکہ حرمت کا کوئی دوسر اسبب نہ پایا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لڑکی اس لڑکے کی رضاعی بہن ہونے کی وجہ سے اس لڑکے پر تو حرام ہے، لیکن لڑکے کا والد کسی بھی طرح سے اس لڑکی کا رضاعی باپ نہیں بنتا کہ اس عورت کو دودھ اس شخص کی وجہ سے نہیں آیا، لہذا اس سبب سے وہ اس شخص پر حرام نہیں ہو گی۔ فتاوی ہندیہ میں ہے: ” لا يجوز للرجل ان يتزوج اخت ابنه من النسب ويجوز في الرضاع “ترجمہ : مرد کے لیے اپنے نبی بیٹے کی بہن سے نکاح جائز نہیں، لیکن رضاعت میں (یعنی بیٹے کی رضاعی بہن سے نکاح ) جائز ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.