Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
لے پالک لڑکی سے نکاح کرنے کا حکم
- Fatwa no.
- 2974-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی آدمی کسی لڑکی کو پالنے کے لئے لے، تو کیا اب اسی شخص کا اس لڑکی سے نکاح کرنا جائز ہے؟
Answer (beginning)
قوانین شرعیہ کی رُو سے لے پالک بچہ یا بچی محض گود لینے سے محرم نہیں بن جاتے ، لہذا اگر لڑکی کا اس شخص سے رضاعت کارشتہ قائم نہیں ہوا اور اسی طرح نکاح سے ممانعت کی جو دوسری وجوہات ہیں مثلا نسبی رشتہ ہونا یا مصاہرت ہو ناوغیرہ ، وہ نہیں پائے جار ہے تو ایسی لے پالک لڑکی سے بھی اس شخص کا نکاح جائز ہے۔ لے پالک اور منہ بولا بیٹا یا بیٹی حقیقی اولاد کی طرح نہیں۔ چنانچہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ﴿ وَمَا جَعَلَ اَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللهُ يَقُولُ الْحَقِّ وَهُوَ يَهْدِى السَّبِيلَ ترجمه کنز الایمان: اور نہ تمہارے لے پالکوں کو تمہارا بیٹا بنا یا یہ تمہارے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.