Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مجھے عشق ہے تو خدا سے ہے یہ شعر پڑھنا کیسا؟

Fatwa no.
2965-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) " مجھے عشق ہے تو خدا سے ہے " اس طرح کہہ سکتے ہیں ؟ خدا کے لیے لفظ عشق استعمال کر سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

شعر کے اس حصے کہ ”مجھے عشق ہے تو خدا سے ہے“ میں عشق کی نسبت شاعر نے اپنی جانب کی ہے یعنی مجھے خدا سے عشق، محبت ہے ، یہاں رب تعالیٰ کے لئے لفظ عشق استعمال نہیں کیا گیا، لہذا امذ کورہ جملہ کہنا جائز و درست ہے اور کیوں نہ ہو کہ مؤمن بندے کو اپنے خالق و مالک سے عشق اور محبت ہو نا ایمان کا تقاضا ہے۔ نیز بزرگوں کے کلام سے بھی بندے کے لئے رب سے اظہارِ محبت کے لئے لفظ عشق کا ثبوت ملتا ہے۔ ایمان والوں کا رب تعالی سے عشق و محبت کا ہونا قرآن کریم سے ثابت ہے ، چنانچہ رب تعالی کا فرمان ہے: و الَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبالِلهِ ﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.