Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جنبی شخص کے پسینے کا حکم
- Fatwa no.
- 2961-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی کو احتلام ہو جائے تو یہ تو معلوم ہے کہ منی والی جگہ سے کپڑا ناپاک ہو جاتا ہے۔ یہ پوچھتا ہے کہ اس شخص کو اگر پسینہ آئے اور وہ کپڑے پر لگ جائے تو اس کا پسینہ لگنے سے کپڑے کا کیا حکم ہو گا کیا وہ بھی ناپاک ہو جائے گا؟
Answer (beginning)
جنبی (جس پر غسل فرض ہو) کا پسینہ پاک ہے اگر کپڑے کو لگ جائے تو وہ ناپاک نہیں ہوں گے۔ امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ تعالی علیہ سے سوال ہوا کہ حالت جنابت میں اگر پسینہ آئے اور کپڑے تر ہو جائیں تو نجس ہو جائیں گے یا نہیں؟ تو آپ علیہ الرحمہ نے جواباً ارشاد فرمایا: ” نہیں، جنب کا پسینہ مثل اس کے لعاب دہن کے پاک ہے۔ (فتاوی رضویه، ج4، ص380، رضا فاؤنڈیشن، لاہور) وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم 66 عالم الامية الهالات Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-ifta…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.