Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

الفاظِ قسم کے ساتھ متصلاً "ان شاء اللہ" کہنا

Fatwa no.
2960-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کسی طالب علم نے قسم کھائی کہ " میں قرآن پاک کی قسم کھاتا ہوں کہ میں مروں یا جیوں ان شاء اللہ جامعہ کی چھٹی نہیں کروں گا " تو کیا قسم توڑنے کی صورت میں وہ کفارہ ادا کرے گا؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اس قسم کو پورا کرناضروری نہیں اور اس قسم کو توڑنے پر کفارہ بھی نہیں، کیونکہ اگر کوئی شخص قسم کے ساتھ ان شاء اللہ کے الفاظ متصلاً ( ملا کر) بولے، تو ایسی قسم کا پورا کر ناشر عاضر وری نہیں ہو تا۔ در مختار میں ہے ” ( وصل بحلفه إن شاء الله بطل) يمينه “ ترجمہ : اپنی قسم کے ساتھ ان شاء اللہ ملایا تو قسم باطل ہو جائے گی۔ (درمختار مع ردالمحتار، کتاب الایمان،ج3، ص742،دار الفکر، بیروت) وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم حلا الافيا الماليات Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-ifta…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

Appears in topics

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.