Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نائٹ ڈیوٹی کے درمیان سونا کیسا ہے ؟
- Fatwa no.
- 2955-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت دعوت اسلامی) میر اسوال یہ ہے کہ نائٹ ڈیوٹی کے درمیان سونا کیسا ہے جبکہ ادارے کی طرف سے دوران ڈیوٹی سونے کی اجازت نہیں؟
Answer (beginning)
ڈیوٹی کے اوقات میں ملازم کے لئے مکمل طور پر تسلیم نفس یعنی کام کے لئے حاضر رہنا اور دیئے گئے کام کو مکمل کرنا ضروری ہوتا ہے ،لہذ اوقفہ کے علاوہ ڈیوٹی کے درمیان سونا یا اپنا ذاتی کام کرنا جائز نہیں۔ اور جو لوگ دوران ڈیوٹی سوتے ہیں ان پر لازم ہے کہ اپنے اس غیر شرعی فعل سے توبہ کریں اور اتنے وقت کا حساب لگا کر اپنی تنخواہ (اجرت) میں سے اس کے پیسے کٹوائیں ، پوری تنخواہ (اجرت لینا ان کے لئے جائز نہیں۔ چنانچہ فتاوی رضویہ میں سیدی اعلی حضرت رحمتہ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: "ناقص کام کر کے پوری تنخواہ لینا بھی حرام ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.