Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جس عورت کا حمل ضائع ہو جائے، اس سے حاملہ عورتوں کا دُور بھاگنا
- Fatwa no.
- 2953-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کہا جاتا ہے کہ اگر کسی عورت کا حمل ضائع ہو جائے، تو جو حاملہ عور تیں ہوتی ہیں، ان کو اس عورت (جس کا حمل ضائع ہوا ہے) سے دور رہنا چاہیے کیونکہ اگر اس عورت ( جس کا حمل ضائع ہواہے) کا سایہ حاملہ عورتوں کو لگ گیا، تو ان کا حمل بھی ضائع ہو جائے گا ؟
Answer (beginning)
جس عورت کا حمل ضائع ہو ، اس سے اس لیے دور رہنا کہ جس کو اس کا سایہ لگے گا، اس کا حمل بھی ضائع ہو گا، یہ بد شگونی کے زمرے میں آتا ہے، جو کہ شرعاً جائز نہیں ہے، نیز اس میں بیماری اڑ کر لگنے کا تصور موجو د ہے جو کہ باطل محض ہے اور احادیث مبارکہ میں بیماری اڑ کر لگنے کی واضح طور پر نفی فرمائی گئی ہے۔ البتہ ! حاملہ عورتوں کو ایسی عورت سے بچنا مناسب ہے تا کہ ایسانہ ہو کہ تقدیر کے مطابق کوئی مصیبت پہنچے تو لوگوں کا باطل عقیدہ مزید پختہ ہو کہ فلاں عورت کے پاس بیٹھنے کی وجہ سے ہوا ہے اور ممکن ہے کہ شیطان اس کے دل میں بھی وسوسہ ڈالے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.