Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز میں کمر پر ہاتھ رکھنے کا حکم

Fatwa no.
2863-WAT

Question

نماز میں کمر پر ہاتھ رکھنا کیسا ہے ؟

Answer (beginning)

نماز میں کمر پر ہاتھ رکھنا مکروہ تحریمی ہے، نماز کے علاوہ بھی کمر پر ہاتھ رکھنے سے بچنا چاہئے۔ سنن الترمذی میں ہے ” عن أبي هريرة، أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى أن يصلي الرجل مختصرا“ ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں کمر پر ہاتھ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث 383، ج 2، ص 222، مطبوعہ مصر) در مختار میں ہے ”(و) کرہ۔۔۔(التخصر) وضع اليد على الخاصرة للنهى،(ویکره خارجها) تنزيها“ ترجمہ : نماز میں کمر پر ہاتھ رکھنا مکروہ تحریمی) ہے کیونکہ اس سے ممانعت وارد ہے اور نماز کے علاوہ بھی مکروہ تنزیہی ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.