Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قرآن مجید میں مذکور وقف النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وضاحت

Fatwa no.
2853-WAT

Question

وضاحت دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) قرآن پاک میں کچھ آیات پر وقف النبي صلی اللہ علیہ وسلم لکھا ہوتا ہے اس کے معنی کیا ہیں اور یہ کس لیے ہے ؟

Answer (beginning)

وقف النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معنی ہے: قرآن کی وہ آیت کہ جہاں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے وقف فرمایا ہو اور یہ لفظ قرآن پاک میں حاشیہ پر لکھا ہوتا ہے ، ایسی جگہ وقف کرنا یعنی ٹھہر نا مستحب ہے۔ وقف النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق " جامع الوقف " میں ہے: یہ کلام مجید میں حاشیہ پر لکھا ہوتا ہے ، ایسے موقع پر وقف مستحب ہے، اس لیے کہ در میان آیت میں بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گیارہ جگہ وقف ثابت ہے۔ (جامع الوقف، صفحه 24، مطبوعه لاهور) مکتبۃ المدینہ کی "فیضان تجوید " نامی کتاب میں ہے "وقف النبی صلی اللہ علیہ و سلم: یہ کلام مجید میں حاشیہ پر لکھا ہوتا ہے، ایسے موقع پر وقف کرنا مستحب ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.