Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قربانی کے جانور میں عقیقےکا حصہ رکھنا کیوں جائز ہے ؟

Fatwa no.
2836-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) قربانی کے جانور میں عقیقے کا حصہ رکھنا جائز ہے ، اس کی وجہ کیا ہے؟

Answer (beginning)

قربانی کے جانور میں واجب و نفل وغیرہ ہر طرح کی نیکی و قربت کا حصہ ہو سکتا ہے اور عقیقہ بھی قربت و نیکی کی ایک صورت ہے ، اس لئے اس کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔ حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار میں ہے ”ولو ارادوا القربة الاضحية اوغيرها من القرب اجزأهم سواء كانت القربة واجبة او تطوعا او وجب على البعض دون البعض وسواء اتفقت جهة القربة او اختلفت۔۔۔ کذلک ان اراد بعضهم العقيقة عن ولد ولد له من قبله “ترجمہ : ( ایک جانور میں شریک) لوگوں نے (اس جانور میں) قربانی کی قربت کی نیت کی ہو یا قربانی کے علاوہ کسی اور قربت کی نیت کی ہو، تو یہ نیت کرنا ان کو کافی ہو جائے گا، چاہے وہ قربت واجبہ ہو یا نفلی قربت ہو یا بعض…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.