Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جس نے خواب میں حضرت صدیق اکبر کو دیکھا، اس نے آپ ہی کو دیکھا، کیا یہ درست ہے ؟
- Fatwa no.
- 2830-WAT
- Issued
- 22 ذوالحجۃ الحرام 1445ھ / 29 جون 2024 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں نے ذہنی آزمائش میں یہ سنا کہ خواب میں اگر کوئی حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کو دیکھے تو اس نے آپ کو ہی دیکھا کیونکہ شیطان ان کی صورت اختیار نہیں کر سکتا، کیا یہ بات درست ہے ؟ ہم نے تو یہ سنا کہ یہ معاملہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ہے۔ برائے کرم رہنمائی فرما دیں۔
Answer (beginning)
جی ہاں ! جس طرح مذکورہ بات سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے وارد ہے یو نہی سید ناصدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے لئے بھی وارد ہے۔ چنانچہ الفردوس بماثور الخطاب میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمايا: " من رآني في المنام فقد رآني فإن الشيطان لا يتمثل بي ومن رأى أبا بكر الصديق في المنام فقد رآه فإن الشيطان لا يتمثل بہ " یعنی جس نے مجھے خواب میں دیکھا یقیناً اس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا اور جس نے ابو بکر صدیق (رضی اللہ عنہ ) کو خواب میں دیکھا اس نے واقعی انہی کو دیکھا کیونکہ شیطان ان کی شکل اختیار نہیں کر سکتا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.