Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا نمازِ عید تنہا ادا کی جا سکتی ہے ؟

Fatwa no.
2828-WAT

Question

اگر عید کی نماز جماعت سے رہ جائے اور کسی مسجد میں بھی وقت باقی نہیں رہا، تو اکیلے عید کی نماز پڑھنے پر ادائیگی ہو جائے گی ؟

Answer (beginning)

اکیلے عید کی نماز پڑھنے سے عید کی نماز ادا نہیں ہوگی، کیونکہ عید کی نماز کے لیے جماعت شرط ہے۔ اب اگر اس پر عید کی نماز واجب تھی اور بلاوجہ شرعی اس کی نماز رہ گئی تو یہ شخص گنہگار ہوا، اس پر تو بہ کرنالازم ہے۔ فتاوی ہندیہ میں ہے ” تجب صلاة العيد على كل من تجب عليه صلاة الجمعة، كذافي الهداية، ويشترط للعيدمايشترط للجمعة إلا الخطبة ترجمہ: نماز عید ہر اس شخص پر واجب ہے، جس پر جمعہ واجب ہے، جیسا کہ ہدایہ میں ہے ، اور جو نماز جمعہ کے لئے شرط ہے وہی نماز عید کے لئے بھی شرط ہے، سوائے خطبے کے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.