Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مکڑی کھانے کا حکم

Fatwa no.
2816-WAT

Question

وو مکڑی کھانا حلال ہے یا حرام ہے؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

Answer (beginning)

مکڑی حشرات الارض میں سے ہے اور حشرات الارض کا کھانا حرام ہے کیونکہ یہ طبعی طور پر خبیث ہیں، اور خبیث چیز کا کھانا حرام ہے، لہذا مکڑی کھانا حرام ہے۔ حشرات الارض کے حرام ہونے کے بارے میں امام محمد بن احمد سرخسی علیہ رحمتہ اللہ القوی لکھتے ہیں: والمستخبث حرام بالنص لقوله تعالى ( وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبيثَ ولهذا حرم تناول الحشرات، فإنها مستخبئة طبعا، وإنما أبيح لنا أكل الطببات " ترجمہ: اور خبیث چیز نص کی بنا پر حرام ہے، کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے ( اور نبی لوگوں پر خبیث چیزوں کو حرام کرتے ہیں) اور اسی وجہ سے حشرات کا کھانا حرام ہے، کیونکہ یہ طبعاً خبیث ہیں، جبکہ ہمارے لیے پاکیزہ چیزوں کو…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.