Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
والدہ بچے کا عقیقہ کر سکتی ہے یا نہیں؟
- Fatwa no.
- 2815-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) بچے کا عقیقہ کیا صرف والد کر سکتا ہے ، اس کے علاوہ کوئی اور نہیں کر سکتا، مثلاً والد کا انتقال ہو گیا ہو ، تو کیا والدہ کر سکتی ہے؟
Answer (beginning)
عقیقہ نعمت اولاد پر بطور شکرانہ ماں باپ دونوں پر ہوتا ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں والد کا انتقال ہو گیا ہے ، تو بلاشبہ بچے کا عقیقہ اس کی والدہ بھی کر سکتی ہیں۔ مرقاۃ المفاتیح میں ہے: " أنه نعمة من الله على والديه، فلا بد لهما من الشکر علیہ " یعنی بچہ اللہ تعالی کی طرف سے اس کے والدین کے لیے نعمت ہے ، تو انہیں اس پر ( عقیقے کے ذریعے ) شکر ادا کر ناضروری ہے۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشکوۃ المصابیح جلد 7 ، صفحہ 2688، دارالفکر، بیروت) وَ اللهُ أَعْلَمُ عَدَدَ جَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم عَزَّوَجَ Dar-ul-IftaAhlesunnat…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.