Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا رمئ جمرات کے لئے طہارت (وضو وغسل) ضروری ہے؟
- Fatwa no.
- 2809-WAT
Question
دارالافتاءاہلسنت (دعوت اسلامی) میرا سوال یہ ہے کہ کیا رمی جمرات کے لئے طہارت ( وضو و غسل) ضروری ہے؟
Answer (beginning)
رمی جمرات کے لئے طہارت، وضو و غسل، ضروری نہیں، البتہ تینوں دن جمروں پر کنکریاں مارنے کے لیے غسل کرنا مستحب یعنی اچھا عمل ہے۔ در مختار میں ہے ”(وند ب۔۔۔عند دخول منی یوم النحر ) لرمي الجمرة “ ترجمہ : یوم نحر کو رمی جمرات کے لئے منی میں داخل ہوتے وقت غسل کرنا مستحب ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، کتاب الطهارة،ج1،ص341،342،مطبوعه کوئٹہ) بہار شریعت میں ہے: ”وقوفِ عرفات ووقوف مزدلفہ و حاضر کی حرم و حاضری سر کار اعظم و طواف ودخولِ منی اور جمروں پر کنکریاں مارنے کے لیے تینوں دن اور شب برات اور شب قدر اور عرفہ کی رات۔۔۔ ان سب کے لیے غسل مستحب ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.