Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حیض ونفاس والی تھوڑے پانی میں ہاتھ ڈالے تو مستعمل نہیں ہوتا
- Fatwa no.
- 2807-WAT
Question
حائضہ اور نفساء کا جب تک حیض اور نفاس باقی ہو تو اگر وہ بے دھلا ہاتھ پانی میں ڈال دے تو پانی مستعمل نہیں ہوتا ہے اس کی کیا وجہ ہے ؟ حالانکہ انکا ہاتھ بھی تو بے دھلا ہے کیا اس وجہ سے نہیں ہوتا ہے کہ ابھی تک انکے جسم پر نجاست کا حکم لاحق نہیں ہوایا اور کوئی وجہ ہے ؟
Answer (beginning)
حیض یا نفاس والی عورت اگر اپنا بے دھلا ہاتھ تھوڑے پانی میں ڈال دے تو وہ پانی مستعمل نہیں ہو تا، اس کی وجہ فقہائے کرام نے یہی بیان کی کہ حیض والی عورت اس وقت حدث والی ہو گی جب حیض ختم ہو گا ، اس سے پہلے اس پر کوئی حدث لاحق نہیں ہوتا، اس لئے اس کا بے دھلا ہاتھ پانی میں جانے سے پانی بھی مستعمل نہیں ہو تا۔ چنانچہ امام اہل سنت سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا ” : جنب مرد یا حیض والی عورت کا ہاتھ سیر بھر پانی یا سیر سے کم میں سہو یا عمد اڈوبے تو وہ پانی غسل و وضو کے قابل ہے یا نہیں؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.