Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا قسم کو ختم کیا جاسکتا ہے؟
- Fatwa no.
- 2792-WAT
Question
اگر کوئی شخص قسم کھائے کہ میں آئندہ فلاں کام نہیں کروں گا، پھر کچھ عرصہ کے بعد یہ کہہ دے کہ میں نے جو قسم کھائی تھی، میں اسے ختم کرتا ہوں، تو کیا حکم شرعی ہو گا ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں، یہ کہنے سے کہ: " میں قسم ختم کرتا ہوں " قسم مختم نہیں ہو گی، اگر قسم کے خلاف عمل کیا، تو قسم کا کفارہ ادا کرنا لازم ہے ، کفارہ ادا کیے بغیر بری الذمہ نہیں ہو گا۔ قسم کا کفارہ قسم کے کفارے کی نیت سے ایک غلام آزاد کرنا یا دس مسکینوں کو کپڑے پہنانا یا انہیں دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلانا لازم ہوتا ہے اور اس بات کا بھی اختیار ہوتا ہے کہ چاہے تو کھانے کے بدلے میں ہر مسکین کو الگ الگ ایک صدقہ فطر کی مقدار یعنی آدھا صاع ( دو کلو میں اسی گرام کم گندم یا ایک صاع ( چار کلو میں ایک سو ساٹھ گرام کم ) جو یا کھجور یا کشمش دے دے یا ان چاروں میں سے کسی کی قیمت دے دے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.