Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بلا عذرِ شرعی عورتوں کی طرف سے رمی کرنا
- Fatwa no.
- 2789-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہمارے جاننے والے پچھلے سال حج پر گئے تھے ، اسلامی بہنوں نے پہلے دن تو خو در می کی ، لیکن 11 اور 12 کی رمی بلا عذر شرعی ان کی طرف سے مردوں نے کی، پوچھنا یہ تھا کہ عورت کی طرف سے مرد حضرات رمی کر سکتے ہیں ؟ اگر نہیں تو مذکورہ صورت میں دم دینا ہو گا ؟ اگر ہاں تو ایک دم کافی ہے یا دو دم دینے ہوں گے ؟ ہوگا گا؟
Answer (beginning)
بلا عذر شرعی مرد کا عورت کی طرف سے رمی کرنا درست نہیں، نیز اس طرح عورت کی رمی ادا بھی نہیں ہو گی ، لہذا 11 اور 12 کی رمی نہ کرنے کی وجہ سے ہر اسلامی بہن پر صرف ایک دم لازم ہے۔ شرح لباب میں ہے ”لا تجوز النيابة عن المراة بغير عذر ترجمہ : بغير عذر شرعی عورت کی طرف سے رمی کی نیابت جائز نہیں۔ (لباب و شرح لباب، ص 351، مطبوعہ پشاور) 66 " 27 واجبات حج اور تفصیلی احکام " نامی کتاب میں ہے: ”بلا عذر شرعی مرد حضرات مستورات کی طرف سے بھی رمی نہیں کر سکتے اگر چہ ان کی اجازت سے ہی کیوں نہ ہو ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.