Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جانور خریدنے کے بعد بیمار ہوا ہو تو اس کی قربانی کا حکم

Fatwa no.
2788-WAT

Question

(دعوت اسلامی) ابلق گھوڑے سوار رسالے میں ہے: ایسا بیمار جس کی بیماری ظاہر ہو ، ( یعنی جو بیماری کی وجہ سے چارہ نہ کھائے ) اس کی قربانی نہیں ہو سکتی۔ تو میر اسوال یہ تھا کہ اگر کوئی جانور خریدنے کے وقت بیمار نہیں تھا، بعد میں بیمار ہو اور چارہ نہ کھائے تو کیا ایسے جانور کی قربانی بھی جائز نہیں ہے؟ برائے کرم رہنمائی فرمائیں۔

Answer (beginning)

بیمار جانور کے متعلق بیان کردہ حکم عام ہے لہذا جانور خریدتے وقت بیمار ہو یا خریدنے کے بعد بیمار ہوا تو صاحب نصاب کے لئے دونوں صورتوں کا ایک حکم ہے کہ اس کی جگہ دوسرا جانور قربان کرناضروری ہو گا۔ البتہ فقیر نے قربانی کی نیت سے جانور خرید اپھر اس میں کوئی عیب پیدا ہو گیا تو اس پر دوسرا جانور خرید کر اس کی قربانی کرنالازم نہیں۔ فتاوی ہندیہ میں ہے: ”کل عيب يمنع الأضحية ففي حق الموسريستوي أن يشتريها كذلك أو يشتريها وهي سليمة فصارت معيبة بذلك العيب لا تجوز على كل حال، وفي حق المعسر تجوز على كل حال، كذافى المحيط ترجمہ : ہر وہ عیب جو قربانی سے مانع ہو تا ہے تو صاحب نصاب کے حق میں خریدتے وقت وہ عیب ہو…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.