Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

طوافِ زیارت کے بعد حج کی سعی میں تاخیر کرنے کا حکم

Fatwa no.
2787-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا طواف زیارت کے بعد حج کی سعی کرنے کی صورت میں اس کو طواف کے فورا بعد ایام تشریق میں کرناضروری ہے ؟ یا یوں بھی کر سکتے ہیں کہ طواف زیارت کے بعد واپس منی چلے جائیں اور وہاں دو دن بقیہ گزار کر جب اپنے ہوٹل میں آئیں گے تو آرام کرنے کے بعد کرلیں؟

Answer (beginning)

حج کی سعی، طواف زیارت کے فورا بعد کرنا واجب نہیں البتہ سنت یہی ہے کہ پہلے نہ کی ہو ، تو اب طواف زیارت کے ساتھ متصلا کر لی جائے ، بلا عذر شرعی تاخیر نہ کی جائے۔ علامہ ابنِ عابدین شامی دمشقی رَحْمَةُ الله تَعَالَى عَلَيْهِ ( سالِ وفات : 1252ھ / 1836ء)لکھتے ہیں: ” أنه لا يجب بعده فورا والسنة الاتصال به “ ترجمہ : سعی، طواف زیارت کے فوراً بعد واجب نہیں اور سنت یہ ہے کہ طواف کے ساتھ ہو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.