Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسلمان کا کافروں کے واش روم صاف کرنے کی نوکری کرنا
- Fatwa no.
- 2784-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کسی مسلمان کا غیر مسلم ملک میں کسی ایسے سکول میں واش روم وغیرہ صاف کرنے کی نوکری کرنا جہاں غیر مسلم اس واش روم کو استعمال کرتے ہوں، ایسا کرنا کیسا؟
Answer (beginning)
کسی مسلمان کے لئے غیر مسلم کی وہی نوکری کرنا جائز ہے جس میں اسلام و مسلم کی ذلت نہ ہو جبکہ دریافت کردہ صورت میں ایسا واش روم صاف کرنا جن کو غیر مسلم استعمال کرتے ہوں، یقینا یہ کام مسلمان کے لئے ذلت کا باعث ہے، لہذا مسلمان کا ایسی نوکری کرنا جائز نہیں۔ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا ضان علیہ رحمتہ الرحمن فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ”کافر کی نوکری مسلمان کے لئے وہی جائز ہے جس میں اسلام و مسلم کی ذلت نہ ہو نص علیہ العلماء كما في الغمز و غیره (علماء کرام نے اس کی تصریح فرمائی جیسا کہ الغمز وغیرہ میں مذکور ہے ) رزق اللہ کے ذمہ ہے اور اس کے راستے کھلے ہوئے، تو عذر مجبوری غلط ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.