Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جانور کے کان میں سوراخ ہو تو اس کی قربانی کا حکم
- Fatwa no.
- 2781-WAT
Question
(دعوت اسلامی) گور نمنٹ بعض جانوروں کے کان میں سیل کے لیے سوراخ کر دیتی ہے ، ایسے جانور کی قربانی کرنا کیسا؟
Answer (beginning)
سوراخ اگر تہائی کان کی مقدار یا اس سے کم ہے اور کوئی دوسرا مانع قربانی عیب بھی نہیں، تو ایسے جانور کی قربانی جائز تو ہے ، مگر مگر وہ وخلاف اولی ہے۔ بزازیہ میں ہے ”خمسة عشر من الآفات لا يمنع منها : التي في أذنها ثقب “ترجمہ: پندرہ (15) عیوب ایسے ہیں (جو قربانی سے ) مانع نہیں ان میں سے ایک وہ جانور جس کے کان میں سوراخ ہو۔ (الفتاوی البزازیہ ، جلد 2، صفحہ 411، دار الکتب العلمیہ، بیروت) بہار شریعت میں ہے : جس کے کان یادم یا چکی کٹے ہوں یعنی وہ عضو تہائی سے زیادہ کٹے ہوں، ان سب کی قربانی نا جائز ہے اور اگر کان یا دم یا چکی تہائی سے کم کئی ہو تو جائز ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.