Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا قربانی چھوڑ کر اس کی جگہ عقیقہ کیا جاسکتا ہے ؟
- Fatwa no.
- 2780-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا قربانی چھوڑ کر اس کی جگہ عقیقہ کیا جا سکتا ہے؟
Answer (beginning)
عقیقہ اور عید کی قربانی، دو مستقل جدا چیزیں ہیں، اور دونوں کے احکامات بھی جداجدا ہیں، عقیقہ سنت مستحبہ ہے کہ اگر کوئی شخص با وجود قدرت عقیقہ نہیں کرتا تو وہ گنہگار نہیں، جبکہ قربانی، شرائط متحقق ہونے کی صورت میں واجب ہوتی ہے اور اس کا بلا عذر ترک ناجائز و گناہ ہے۔ لہذا اگر آپ پر قربانی واجب ہے تو اسے چھوڑ کر عقیقہ کرنا جائز نہیں، کہ یہ واجب چھوڑ کر نفلی کام کرنا ہے، جیسے اگر کسی پر قربانی واجب ہو ، وہ اپنا واجب ادا کرنے کے بجائے کسی دوسرے کی طرف سے نفلی قربانی کرے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.