Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

چند دن بعد قبر پر مٹی ڈالنا

Fatwa no.
2776-WAT

Question

جو شخص دفن کے وقت موجود نہیں تھا، اس کے لیے میت کو دفن کرنے کے دو دن یا تین دن یا دس دن بعد قبر پر مٹی ڈالنا کیسا ؟ حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہو گی ؟

Answer (beginning)

جو لوگ تدفین کے وقت موجود ہوں ان کے لئے قبر پر مٹی ڈالنا مستحب ہے اور صرف اتنی ہی مٹی ڈالنے کی اجازت ہے جس قدر کھدائی کرتے وقت نکلی ہو ، اس سے زائد مٹی ڈالنا مکروہ ہے اور عموماً اس قدر مٹی تدفین کے وقت ڈال دی جاتی ہے، لہذا کچھ دن بعد آنے والے شخص کو مٹی ڈالنے کی بجائے فاتحہ و ایصال ثواب کا اہتمام کرنا چاہیئے۔ قبر پر مٹی ڈالنے کے متعلق حدیث پاک میں ہے: " عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله علیه وسلم صلی على جنازة، ثم أتى قبر الميت، فحثى عليه من قبل رأسه ثلاثا ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک میت پر جنازہ پڑھا، پھر اس کی قبر پر تشریف…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.