Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دل میں قسم کے الفاظ سوچنے سے قسم ہوگی یا نہیں ؟

Fatwa no.
2766-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں نے قسم کھانے کا سوچا تھا لیکن قسم کے الفاظ میں نے زبان سے ادا نہیں کیے البتہ وہ الفاظ میرے دل میں موجود تھے تو کیا اس سے میری قسم ہو گئی ہے ؟

Answer (beginning)

اگر آپ نے قسم کے الفاظ صرف دل میں سوچے ہی تھے ، زبان سے بالکل ادانہ کیے یا ادا کیے لیکن اتنی آواز نہ تھی که شور دوغل و غیرہ کوئی روکاوٹ نہ ہو تو اپنے کانوں تک آواز پہنچ سکے تو ایسی صورت میں قسم نہیں ہوئی۔ در مختار میں ہے ” وركنها اللفظ المستعمل فيها “ ترجمہ : قسم کار کن وہ لفظ ہے جو قسم کے لئے وو (در مختار مع رد المحتار، کتاب الایمان ، ج 3، ص704، دار الفکر، بیروت) مستعمل ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.