Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دو افراد کا مل کر ایک بکرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربان کر نا

Fatwa no.
2757-WAT

Question

سے قربان کرنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص الگ سے اپنی واجب قربانی کرے اور اپنے والد کے ساتھ پیسے ملا کر ایک بکرا الگ سے خریدے اور نبی پاک علیہ السلام کے نام پر اس بکرے کی قربانی کرے تو کیا ایسے قربانی ہو جائے گی ؟

Answer (beginning)

اگر دو افراد مل کر ایک بکر اخریدیں اور اسے نبی پاک علیہ الصلاۃ والسلام کے ایصال ثواب کے لیے ذبح کریں تو اس طرح قربانی کرنا جائز اور اچھا کام ہے۔ فتاوی فیض الرسول میں مفتی جلال الدین امجدی علیہ الرحمہ نے لکھا: ” جس طرح یہ جائز ہے کہ چند مسلمان شریک ہو کر ایک بکر اخریدیں اور اس کی قربانی سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے نام یا کسی دوسرے بزرگ کے نام کریں، کوئی قباحت نہیں۔ اسی طرح کچھ مسلمان مشترکہ طور پر بڑا جانور خرید کر ساتواں حصہ کسی بزرگ یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام قربانی کریں، جائز ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.