Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بندوق کی گولی سے حلال جانور کا شکار کرنا
- Fatwa no.
- 2738-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) بندوق کی گولی سے حلال جانور کا شکار کریں، تو کیا شکار حلال ہو جائے گا ؟
Answer (beginning)
بندوق کی گولی سے شکار کیا اور جانور اسی سے مر جائے، تو اس طرح جانور حلال نہیں ہو گا، اگر چہ بندوق چلاتے وقت تکبیر بھی پڑھی ہو، البتہ اگر گولی لگنے کے بعد اسے زندہ پکڑ لیا اور ذبح شرعی کر دیا، تو پھر جانور حلال ہو جائے گا۔ اعلی حضرت امام اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمتہ الرحمن فرماتے ہیں: ”بندوق کی گولی دربارہ حلتِ صید حکم تیر میں نہیں، اس کا مارا ہوا شہکار مطلقاً حرام ہے کہ اس میں قطع و خرق نہیں، صدم و دق و کسر و حرق ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.