Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
چھوٹا بچہ فوت ہو جائے تو اسے والدہ کاغسل دینا
- Fatwa no.
- 2734-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) چھوٹا بچہ مثلاً 2 یا 3 سال کا بچہ فوت ہو جائے، تو کیا اس کی والدہ اسے غسل دے سکتی ہے یا نہیں ؟
Answer (beginning)
میت اگر بچے کی ہو تو اسے غسل دینے کے حوالے سے حکم شرعی یہ ہے کہ اگر بچہ مشتہاہ ( یعنی قابل شہوت ) نہ ہو ، تو عورت بھی اسے غسل دے سکتی ہے ، لیکن اگر بچہ مشتہا ہو ، تو اس بچے کو کوئی مر د غسل دے گا، عورت کو دینا منع ہے اور دو، تین سال کا بچہ قابلِ شہوت نہیں ہو تا تو والدہ اگر اسے غسل دینا چاہے تو دے سکتی ہے۔ فتاوی ہندیہ میں ہے ” فإن كان الميت صغير الا يشتهي جاز أن يغسله النساء “ترجمہ: اگر میت اتنے چھوٹے بچے کی ہو جو مشتہا نہ ہو تو عورتوں کا اسے غسل دینا جائز ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.