Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نمازی کو ہاتھ والے پنکھے سے ہوا دینے کا حکم
- Fatwa no.
- 2732-WAT
Question
گرمیوں میں کئی مقامات پر سخت گرمی ہوتی ہے اور بعض اوقات بجلی بھی نہیں ہوتی تو کیا ایسی صورت میں کوئی نماز پڑھ رہا ہو اور کوئی دوسرا شخص اس کو ہاتھ والے پنکھے سے ہوا دے تا کہ اس کو گرمی محسوس نہ ہو تو ایسا کرنا کیسا ہے ؟
Answer (beginning)
کوئی شخص نمازی کو ہاتھ والے پنکھے سے ہوا دے تو اس سے نمازی کی نماز میں تو کوئی خرابی نہیں آئی گی، ہاں اگر اس کی وجہ سے خشوع و خضوع میں فرق آتا ہو اور توجہ بنتی ہو تو اس طرح نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی ہو گا، کیونکہ ہر وہ کام جس کی وجہ سے نماز کے خشوع و مخضوع میں فرق آئے، اس کے ہوتے ہوئے نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی ہوتا ہے۔ فتاوی رضویہ میں اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نمازی کو پنکھا سے ہوا دینے کے متعلق فرماتے ہیں: نماز قلبی تذلل و تضرع و تخشع ہے کمافی الحدیث۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.