Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

چیز کے اوپر لکھی ہوئی قیمت سے زیادہ قیمت میں چیز بیچنا

Fatwa no.
2731-WAT

Question

میر اسوال یہ ہے کہ میں دوکان دار ہوں کسی چیز کے اوپر جور تم لکھی ہوئی ہے، کیا اس رقم سے زیادہ میں وہ چیز بیچ سکتے ہیں ؟ خریدنے والا خوشی خوشی خرید رہا ہو ( وہ ایٹم شارٹ ہے اس لیے )؟

Answer (beginning)

عام صورت حال میں دوکانداروہ چیز زیادہ ریٹ پر بھی بیچ سکتا ہے جبکہ خریدار کو دھوکا نہ دیا جائے، کیونکہ اس کی اپنی چیز ہے جتنے میں پہنا چاہے بیچے۔ لیکن خیر خواہی کی نیت سے کم ریٹ پر دینا بہتر ہے، جس طرح آج کل مہنگائی کا بھی دور چل رہا ہے، مسلمانوں کی خیر خواہی کی نیت سے چیز ستی دے گا تو نفع کے ساتھ ثواب کا بھی حق دار ہو گا۔ اگر کوئی خاص صورت ہے کہ حکومت کی طرف سے پابندی ہے ، جس کی خلاف ورزی پر ذلت وغیرہ کی صورت بنے تو اس کا معاملہ جدا ہے کہ اپنے آپ کو ذلت پر پیش کرنا منع ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.