Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا بچی کا نام نائلہ رکھ سکتے ہیں؟

Fatwa no.
2724-WAT

Question

کیا بچی کا نام نائلہ رکھ سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

جی ہاں ! بچی کا نام "نائلہ " رکھ سکتے ہیں، بلکہ بہتر ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کی زوجہ محترمہ وکئی صحابیات کا نام "نائلہ " تھا اور حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے۔ سیر اعلام النبلاء میں ہے ”تزوج عثمان نائلة بنت الفرافصة فأسلمت قبل أن يدخل بها‘ترجمہ : حضرت عثمان نے نائلہ بنت فرافصہ سے شادی کی اور وہ دخول سے پہلے اسلام لے آئی تھیں۔ (سیر اعلام النبلاء، ج 2، ص 465، دار الحديث، القاهرة) الاصابۃ فی تمییز الصحابہ میں ہے ”نائلة بنت الربیع بن قیس:۔۔۔ ذكرها ابن سعد، وقال: أمها فاطمة بنت عمرو بن عطیہ۔۔۔ فأسلمت وبايعت۔۔۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.