Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

صرف مستعمل پانی موجود ہو تو تیمم کرنا

Fatwa no.
2719-WAT

Question

دارالافتاءاہلسنت (دعوت اسلامی) اگر صرف مستعمل پانی موجود ہو اور وضو کر نا ہو تو کیا تیم کر سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

اگر صرف مستعمل پانی ہی ہے اور اس کے علاوہ بالکل پانی نہیں، نیز تیم جائز ہونے کی تمام شرائط پائی جارہی ہیں، تو تیم ہی کیا جائے گا، مستعمل پانی سے وضو کی اجازت نہیں، کیونکہ وہ پاک کرنے کے قابل نہیں ہے، تو اب ایسا ہو گیا کہ اس شخص کے پاس بالکل بھی پانی نہیں ہے۔ وو فتاوی ہندیہ میں ہے ” اتفق أصحابنا رحمهم الله أن الماء المستعمل ليس بطهور حتى لا يجوز التوضو به " ترجمہ : ہمارے اصحاب رحمھم اللہ کا اس پر اتفاق ہے کہ مائے مستعمل پاک کرنے والا نہیں، حتی کہ اس : سے وضو کرنا جائز نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.