Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
چوری کی سزا کے طور پر چور کی تنخواہ ضبط کرنا
- Fatwa no.
- 2700-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک کارخانہ میں چوری کے حوالے سے یہ قانون بنایا گیا ہے کہ اگر کوئی مزدور چوری کرتے پکڑا گیا تو اس کے پورے ہفتے کے پیسے کٹ جائیں گے ، کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟
Answer (beginning)
کارخانہ کی انتظامیہ کا ملازم سے چوری شدہ مال لینے کا تو حق ہے ، لیکن بطور سزا پورے ہفتے کی تنخواہ ضبط کرنا شرعاً نا جائز ہے، کیونکہ مالی جرمانے کے ساتھ سزا دینا شرعاً جائز نہیں کہ یہ تعزیر بالمال ہے اور تعزیر بالمال منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل کرنا حرام اور باطل طریقے سے مال کھانا ہے۔ لہذا تنخواہ کاٹنے کا قانون تو شرعاً درست نہیں ہے ، ہاں ! البتہ کارخانہ میں ضابطہ اخلاق و انتظام کو بر قرار رکھنے کے لیے انتظامیہ بطور سزا ایسے ملازم کو نوکری سے بر طرف کرنا چاہے تو اس کا انتظامیہ کو پورا حق حاصل ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.