Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مہرکی ادائیگی سے پہلے خلع ہو جائے تو عدت کا حکم

Fatwa no.
2698-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) شوہر نے اگر بیوی کا مقررہ مہر ادا نہ کیا اور ان کے مابین خلع ہو جائے تو کیا اب بھی بیوی پر عدت لازم ہوگی ؟

Answer (beginning)

نکاح کے بعد اگر ہمبستری ہو چکی تھی یا نکاح صحیح کے بعد میاں بیوی تنہائی کے مکان میں اس طرح جمع ہو چکے ہوں کہ ان میں کوئی ایسا حقیقی مانع (رکاوٹ ) نہ ہو، جس کی وجہ سے ہمبستری (میاں بیوی والے معاملات) سرے سے ہو ہی نہ سکے ، اس کے بعد شوہر نے طلاق یا خلع دی تو عدت لازم ہوگی کہ عدت کا تعلق مہر کی ادائیگی سے نہیں ہے۔ امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ تعالی علیہ سے سوال ہوا کہ ہندہ نے زید سے نکاح کیا مگر صحبت نہ ہوئی، صبح کو بوجہ اغوائے چند اشخاص ہندہ نے مہر معاف کیا اور زید نے طلاق دے دی، اس صورت میں اُسی روز شام کو نکاح ہندہ عمرو کے ساتھ جائز ہے یا نہیں؟

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.