Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نابالغ بچوں سے چندہ لینے کا حکم
- Fatwa no.
- 2683-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہم نے پوچھنا تھا کہ ہمارے گھر مدرسے میں چھوٹے بچے آتے ہیں، تو ہم ان سے چندے کے پیسے لیتے ہیں اور دعوت اسلامی کے چندے میں جمع کروا دیتے ہیں، کیا ان چھوٹے بچوں سے چندہ لینا جائز و درست ہے یا نہیں ؟
Answer (beginning)
نا بالغ بچوں کی ذاتی رقم ، جو ان کی ملکیت میں ہے، یہ رقم چندے میں وصول کر ناشر عانا جائز و گناہ ہے۔ ہاں اگر یہ بچے چندے کی مد میں اپنے والدین سے یہ رقم لے کر آئیں تو اس صورت میں یہ رقم ان بچوں سے لی جاسکتی ہے کہ یہ رقم نا بالغ بچوں کی ملک نہیں بلکہ ان کے والدین کی ملکیت ہے۔ بہار شریعت میں ہے: ”نا بالغ کے تصرفات تین قسم ہیں (1) نافع محض یعنی وہ تصریف جس میں صرف نفع ہی نفع ہے جیسے اسلام قبول کرنا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.